Showing posts with label Ghazwa-E-Hind. Show all posts
Showing posts with label Ghazwa-E-Hind. Show all posts

Friday, 9 November 2012

Dream Of Usama Bin Laden - Sehra Se Darya Tak






          ======== شیخ اسامہ شہید رحمہ اللہ کے بچپن کا ایک خواب ============


1966کی صبح ایک عرب بچہ فجر سے کچھ پہلے اپنے والد کو جگا کر کہتا ہے ابا جان میں آپ کو اپنا ایک خواب سنانا چاہتا ہوں ۔ والد نے سوچا شاید بچے نے کوءی ڈراؤنا خواب دیکھا ہے ۔ انہوں نے وضو کیا اور بچے کولے کر مسجد کی طرف چل پڑے ۔ راستے میں بچے نے بتایا کہ میں نےخواب میں خود کوایک وسیع میدان میں پایا۔ میں نے دیکھا کہ سفید رنگ کے گھوڑوں پ

رسوار ایک لشکر میری جانب بڑھ رہا ہے ۔ اس لشکر میں سے ایک گھڑ سوار جس کی آنکھیں چمک رہی تھیں میرے برابر آکر رک گیا اور کہنے لگا: کیا آپ اسامہ بن لادن ہیں ؟ میں نے جواب دیا جی ہاں۔ اس نے پھر سوال پوچھا کیا آپ اسامہ بن لادن ہیں؟

میں نے جواب دیا جی ہاں میں ہی ہوں۔ اس نے تیسری بار پھر پوچھا کیا آپ ہی اسامہ بن لادن ہیں؟ تب میں نے اسے کہا خدا کی قسم میںہی اسامہ بن محمد بن لادنہوں۔ اس نے میری طرف ایک جھنڈا بڑھایا اور کہا کہ یہ جھنڈا القدس کے دروازے پر امام مہدی(محمد بن عبداللہ ) کو دے دینا ۔ میں نے وہ پرچم لے لیا اور میں نے دیکھا کہ وہ لشکر میرے پیچھے پیچھے چلنے لگا۔ والد اس خواب پر بہت حیرانہوءے لیکن پھر کسی کام میں مصروفیت کی بنا پر خواب کو بھول گیے ۔ اگلی صبح نماز سےکچھ پہلے جگا کر بچے نے پھر وہی خواب سنایا۔ تیسری صبح پھر ایسا ہی ہوا تووالد کواپنے بچے کے بارے میں تشویش ہوءی وہ اسے لے کر ایک عالم کے پاس گیے جو خوابوں کی تعبیر جانتے تھے۔ انہوں نے خواب سن کر بچے کو غور سے دیکھا اور پوچھا کیا اس بچے نے خواب دیکھا ہے والد نے فرمایا جی۔ انہوں نے بچے سے پوچھا، بیٹے تمہیں وہ پرچم یاد ہے جو تمہیں اس گھڑ سوار نے دیا تھا ؟

اسامہ نے کہا، جی ہاں مجھےیاد ہے۔ وہ عالم کہنے لگے ذرا مجھے بتاؤ وہ کیسا تھا؟ اسامہ نے کہا، تھا تووہ سعودیعرب کے جھنڈے جیسا ہی مگر اس کا رنگ سبز نہیں تھا بلکہ سیاہ تھا اور اس میںسفید رنگ سے کچھ لکھا ہوا بھی تھا۔ عالم نے اسامہ سے پوچھا کبھی تم نے خود بھی لڑتے ہوءے دیکھا ہے اسامہ نے کہا، اس طرح کے خواب تو میں اکثر دیکھتا رہتا ہوں۔ پھر انہوں نے اسامہ سے کہا کہ وہ باہر جاءیں اور تلاوت کریں۔

پھر وہ والد کی طرف متوجہ ہوءے اورپوچھا آپ لوگوں کاآبایی تعلق کہاں سے ہے ؟ انہوں نےکہا، یمن کے علاقے حضرت موت سے ۔کہنے لگے کہ اپنے قبیلے کے بارے میں بتاءیں۔ انہوں نے کہا ہمارا تعلق قبیلہ شنوءۃ سے ہے جو یمن کا قحطانی قبیلہ ہے ۔ عالم نے زور سے تکبیر بلند کی پھر اسامہ کو بلایا اور ان کو روتے ہوءے چومنے لگے ساتھ فرمایا ، قیامت کی نشانیاں قریب آگیی ہیں اے محمد بن لادن آپ کا یہ بیٹا امام مہدی کے لیے لشکر تیار کرے گا اور اپنے دین کی حفاظت کے لیے خطہ خراسان کی طرف ہجرت کرے گا۔ اے اسامہ مبارک ہے وہ جو آپ کے ساتھ جہاد کرے ، ناکام ونامراد ہو وہ جو آپ کو تنہا چھوڑ کر آپ کے خلاف لڑے ۔ 

بحوالہ : شہید اسامہ صحرا سے دریا تک



Tuesday, 24 July 2012

Khurasan Aur Ghazwa-E-Hind - Complete Article On Ghazwa-E-Hind And Dajjal



صدیوں پہلے احادیث مبارکہ میں خراسان اور غزوہ ہند کے بارے پیش گوئیاں کی گئی ہیں۔ افغانستان کی سرزمین کو قدیم زمانے میں خراسان کہا جاتا تھا۔ اس میں پہلے وہ تمام علاقہ شامل تھا جو اب افغانستان ہے جبکہ یہ ملک مشرق میں بدخشاں تک پھیلا ہوا تھا اور اس کی شمالی سرحد دریائے جیحوں اور خوارزم تھے۔ نیشاپور، مرو، ہرات اور بلخ اس کے دارالحکومت رہے ہیں۔ قدیم زمانہ کے خراسان کا جو حصہ ایران میں شامل ہے وہ اب بھی اپنے اصل نام کے ساتھ موجود ہے لیکن اسے تین صوبوں جنوبی خراسان، شمالی خراسان اور رضاوی خراسان میں تقسیم کر دیا گیا ہے جبکہ مالاکنڈ ڈویژن سمیت شمالی پاکستان کے مختلف حصے بھی خراسان کا حصہ رہے ہیں۔ اس وقت پوری دُنیا میں خراسان نام کے کسی ملک کا وجود نہیں ملتا لیکن صدیوں پہلے یہ ملک افغانستان، ایران، پاکستان اور وسط ایشیائی ریاستوں تک پھیلا ہوا تھا۔ یہ تمام وہ علاقہ ہے جس کے بارے میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا کہ امام مہدی علیہ السلام کی مدد کے لیئے یہاں سے کالے جھنڈے لے کر مسلمان فوجیں چلیں گی اور اُن کا راستہ کوئی نہیں روک سکے گا یہاں تک کہ وہ کالے جھنڈے ایلیاء (بیت المقدس) میں نصب کئے جائینگے جبکہ ایک اور حدیث کے مطابق غزوہ ہند کا آغاز بھی خراسان سے ہی ہو گا۔

موجودہ حالات کو سمجھنا ہے تو خراسان اور غزوہ ہند کی احادیث مبارکہ کو سامنے رکھ کر فیصلہ کیا جائے تو بہت سی باتیں خود ہی کھل کر سامنے آ جائیں گی۔ یہی وہ خطہ ہے جہاں آج اسلام دشمن شیطانی طاقتیں پاکستان، افغانستان اور ایران کے خلاف برسرپیکار ہیں۔ ان ممالک کے خلاف کارروائی کے لیئے جو پوری دنیا کے غیر مسلم ممالک کا اتحاد و اشتراک ہو گیا ہے اُس کی وجہ بھی شاید یہی ہے کہ یہاں سے انہیں اسلام کی حیاتِ نو کا اندیشہ ہے کیوں کہ خراسان میں بڑی اہم ہستیوں کا جنم ہوا جن کو عام لوگ عرب سمجھتے ہیں۔ مثلاً امام ابوحنیفہ کے قریبی اجداد کا تعلق خراسان سے تھا۔ اسی طرح اسلامی اور مغربی دنیا میں اپنے وقت کے سب سے بڑے طبیب اور حکیم بو علی سینا کا تعلق بلخ سے تھا۔ مولانا رومی کی پیدائش اور تعلیم بھی بلخ ہی میں ہوئی تھی۔ مشہور فلسفی ابوالحسن الفارابی کاتعلق افغانستان کے صوبہ فاریاب سے تھا۔ پندرہویں صدی کے مشہور فارسی صوفی شاعر نور الدین عبدالرحمن جامی کا تعلق افغانستان کے صوبہ غور سے تھا۔ 86ء ہجری میں اسلام کے مشہور جرنیل قتیبہ بن مسلم نے خراسان کو اسلامی حکومت میں شامل کیا، بعد کی اسلامی تاریخ میں اسکو بڑی اہمیت حاصل رہی۔ ساتویں صدی میں ابو مسلم خراسانی نے یہیں سے بنواُمیہ کے خلاف اپنی مہم کا آغاز کیا تھا۔

ممتاز مذہبی اسکالر ڈاکٹر اسرار احمد (مرحوم) فرماتے ہیں کہ خراسان سے حضرت امام مہدی علیہ السلام کی مدد کے لیئے جو لشکر روانہ ہو گا وہ پاکستان اور افغانستان کا کمبائن لشکر ہوگا جبکہ پاکستان کا اس میں بنیادی کردار ہو گا۔ یہ روایت بھی عام ہے کہ خراسان کا لشکر ہوگا تو سفید پوشوں پر مشتمل لیکن جدید ٹیکنالوجی سے آراستہ ہوگا البتہ غزوہ ہند کے بارے میں یہ معلوم نہیں کہ وہ امام مہدی علیہ السلام کے ظہور سے پہلے ہوگی یا بعد میں لیکن بعض مبصرین کا خیال ہے کہ صلیبی جنگ کی صورت میں کفر اور اسلام کا آخری اور فیصلہ کن معرکہ اسی خطے میں شروع ہو چکا ہے اور اگلے ہی لمحے یہ صلیبی جنگ اپنے طبعی انجام کو پہنچنے کیلئے ارضِ مقدس میں اپنے آخری رائونڈ میں داخل ہونے والی ہے۔ کالے جھنڈوں کی لہراہٹ ارضِ بیت المقدس اور مسجد اقصیٰ پر براجمان صیہونی قبضہ کاروں کا خون خشک کر رہی ہے جس کی ایک جھلک طالبان کے ہاتھوں چالیس ممالک کی اتحادی فوج کی شکست سے بخوبی لگائی جا سکتی ہے۔ یہ وہی پٹھان یا طالبان ہیں جن کے بارے میں اسرائیل کی ایک تحقیقی رپورٹ میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ ان کا تعلق بنی اسرائیل کے دس گمشدہ قبائل سے ہے۔ اس طرح پاکستان اور افغانستان کی نصف آبادی یہودی قبیلے کے بچھڑے بہن بھائیوں پر مشتمل ہے۔ افغانستان کے آخری بادشاہ ظاہر شاہ مرحوم برملا یہ اقرار کرتے رہے کہ ان کا تعلق اسرائیل کے پنجامن قبیلے سے ہے۔

اسرائیل کے دس گمشدہ قبائل کے موضوع پر ڈبل ڈاکٹریٹ کرنے والے ملیح آبادی پٹھان نواز ڈاکٹر نوارس آفریدی کی تحقیق بھی یہ ثابت کرتی ہے کہ پشتون اور طالبان کا تعلق بنی اسرائیل سے ہے اور یہ لوگ جب اسرائیل سے بھاگے تو بیشتر نے خراسان میں پناہ حاصل کی۔ خراسان پر ابتداء میں عربوں کی حکمرانی رہی اور بعد میں محمود غزنوی نے ان سے اقتدار چھینا ۔ یہ لوگ چونکہ عرب ممالک سے آ کر یہاں آباد ہوئے اس وجہ سے پٹھانوں اور عربوں کے کئی اوصاف بھی ملتے جلتے ہیں۔ عرب قوم مہمان نواز، بہادر اور اہل قلم ہونے کیساتھ ساتھ دوسری قوموں سے اتنی مرعوب نہیں ہوتی تھی۔ ان چند اوصاف کے علاوہ مجھے کوئی اور اوصاف ان میں زمانہ جاہلیت میں نظر نہیں آتے۔ حیرت کی بات ہے کہ یہی چند اوصاف افغان یا پٹھان قوم میں بھی اسی شدت کے ساتھ پائے جاتے ہیں جبکہ یہ لوگ یہودیوں کی طرح مذہبی رحجانات بھی رکھتے ہیں۔ افغان جنگ و جدل کرنیوالے لوگ ہیں چونکہ انکی نشوونما سخت کوشی، جفاکشی اور مہم پسندی پر ہوئی۔ وہ کسی غیر کی حکومت آسانی سے قبول نہیں کرتے جبکہ مزاج بھی باغیانہ رکھتے ہیں۔ دنیا کہتی ہے کہ افغان سو سال پیچھے پتھر کے زمانے میں جی رہے ہیں جبکہ وہ کہتے ہیں تم سو سال کی بات کرتے ہو ہم چودہ سو سال پیچھے ہیں۔ افغانوں نے یہ ثابت کر دیا کہ جب ایمان لڑنے کے لیئے نکلتا ہے تو ماضی کا قیصر و کسریٰ ہو یا آج کا بش، اوباما یا ٹونی بلیئر سب ڈھیر ہو جاتے ہیں۔

یہ بات طے شدہ ہے کہ اس وقت یہودیوں کی پہنچ دنیا کے تمام بڑے اداروں معیشت، سیاست، تجارت اور میڈیا تک ہے۔ امریکا اور یورپ میں یہودی اس طرح پنجے گاڑھ چکے ہیں کہ وہاں کی حکومتیں بھی انکے ہاتھوں کھلونا بنی ہوئی ہیں۔ امریکا نے روئے ارض پر جہاں بھی فساد فسق و فجور برپا کیا وہ اسرائیلی مفادات سے ہی منسلک ہے۔یہی وجہ ہے کہ آج بھی صرف افغان اور عرب ہی امریکا اور اتحادیوں کو ٹھکانے لگا رہے ہیں۔ اللہ سبحانہ و تعالیٰ کی حکمت ہر چیز پر غالب ہے اور بے شک اس بات کا علم صرف اُسی کے پاس ہے کہ آئندہ کیا صورتحال پیش آنے والی ہے لیکن خراسان اور غزوہ ہند کے بارے احادیث مبارکہ کے تناظر میں دیکھا جائے تو پاکستان اور ایران کی طرف سے اسرائیل کو تسلیم نہ کرنے میں بھی اللہ تعالیٰ کی طرف سے ضرور کوئی حکمت پوشیدہ نظر آتی ہے جبکہ پاکستان کی ایٹمی قوت بھی اُسی ذات کی عنایت کردہ ہے ورنہ شیطانی اتحاد براہ راست کارروائی کرکے اسے نیست و نابود کر دیتا کیونکہ اسوقت اسرائیل صرف پاکستان اور ایران سے ہی خطرہ محسوس کرتا ہے۔دشمن نے اپنے جاسوسی نیٹ ورک کے ذریعے کلمہ طیبہ کے نام پر قائم پاکستان کو توڑنے کیلئے جتنا پیسہ پھینکا، جتنی دہشت گردی کرائی، جتنے بم دھماکے اور خودکش حملے کرائے اگر اتنی دہشت گردی کسی اور ملک میں ہوتی تو وہ کب کا ٹوٹ چکا ہوتا لیکن یہ ملک پھر بھی قائم و دائم ہے اور انشاء اللہ رہے گا۔ آپ گوانتاناموبے سے رہا ہونے والے مسلمان قیدیوں کی رائے جاننے کی کوشش کریں تو بہت سی حقیقتوں کا علم ہوگا کہ وہاں اب بھی زیادہ تر افغانی، عرب اور پاکستانی ہی قید ہیں۔ یہودیوں کے لیئے بہتر یہی ہے کہ وہ بیت المقدس اور مسجد اقصیٰ سے اپنا غاصبانہ قبضہ ختم کر دیں ورنہ بنی اسرائیل کے یہی بچھڑے قبائل نہ صرف بیت المقدس میں پڑائو ڈالیں گے بلکہ دجال کے پیروکاروں کا کچومر بھی نکال دینگے کیونکہ مسجد اقصیٰ اور بیت المقدس کی حفاظت تمام مسلمان اپنا دینی فریضہ سمجھتے ہیں
۔

Friday, 1 June 2012

Future Of Pakistan - Ghazwa-E-Hind


Why Israel, India And America Hate Pakistan - Reality Of Pakistan


Thursday, 31 May 2012

Why We Say Pakistan, Madina-E-Sani




MEANING:-

>PAKISTAN: pak logo kay rehnay ki jaga
>MADINA MUNAWRA: pak jaga or pak logo kay rehnay ki jaga

PURPOSE:-

>madina ki riasat kay qayam ka maqsad islam kay lia aik mazboot markaz ka kayam tha
>pakistan ka nazria be yeh tha aik musalmanoun ka alag mazboot markaz bnaya jai

MIGRATION:-

>madina kay musalmanou nay makkah kay mushrikoun se hijrat ki
>pakistan kay musalmanoun nay hind kay mushrikoun se hijrat ki

WARS:-

>madina kay musalmanoun nay arab kay mushrikoun se 3 badi jangain lari
>pakistan kay musalmanoun nay b hind kay mushrikoun se 3 badi jangain lari

>madina kay musalmanoun ko bzahir aik jang mein shikast ka samna hua
>pakistan kay musalmanoun ko b bzahir aik jang mein shikast ka samna hua

CONSPIRACY:-

>makkah kay mushrik yahood se mil kar madina kay khilaf sazishain bnatay thay
>hind kay mushrik b yahood se mil kar pakistan kay khilaf sazishain bnatay hain

WAHAN FATEH MAKKAH OR YAHAN FATEH E HIND:_

>madina kay musalmannoun nay akhir kar mushrikoun ko shikast di aur makkah fatah ki
>HAZRAT MUHAMMAD (SAWW) ki hadith kay mutabiq pakistan b hind fatah karay ga inshallah

SUPERPOWER:-

>fatah makkah kay bad musalman aik superpower ban kar ubhray
>inshallah fateh hind kay bad b musalman superpower ban kar ubhrain gay

INSHALLAH ---------ALLAH O AKBAR

 
  • Followers

    free counters
  • Total Pageviews